ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوجہاد کا ری ایکشن ، مقتول کے والد کا امن کی اپیل ، مجھے کسی مذہب سے نفرت نہیں: مقتول کا والد

لوجہاد کا ری ایکشن ، مقتول کے والد کا امن کی اپیل ، مجھے کسی مذہب سے نفرت نہیں: مقتول کا والد

Mon, 05 Feb 2018 11:27:02    S.O. News Service

نئی دہلی4 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے ذریعہ پروپیگنڈہ کیے گئے مفروضہ لوجہاد کے ردِ عمل میں ملک کے دارالحکومت میں انکت سکسینہ نامی ایک نوجوان کو عین سڑک پر سرعام گلے کاٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔واضح ہو کہ اس سے قبل افرازالاسلام شہید کا آن ریکارڈ وحشیانہ قتل کیا گیاتھا۔ انکت سکسینہ سلیمہ نام کی ایک مسلم لڑکی کے معاشقہ میں مبتلا تھا؛ لیکن عشق کی سرگرانی نے لوجہاد کے ری ایکشن سے غافل کردیا تھا ۔ بنابریں سلیمہ کے گھر والوں نے انکت کا انجام آخریں تک پہنچانے میں کوئی دریغ نہ کیااس واقعہ کے پس منظر میں ماحول کافی کشیدہ ہے اور شر پسند اس سے اپنا سیاسی فائدہ ڈھونڈنے میں سرگرم ہیں۔ الغرض مقتول کے والد نے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے۔حالاں کہ دہلی بی جے پی یونٹ کے صدراور ممبر اسمبلی منوج تیواری ہفتہ کی شام میت کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی اور سوگواروں کی اشک سوئی بھی کی۔انکت سکسینہ کے والد نے منوج تیواری سے کہاکہ انہیں انصاف چاہئے انہیں ذاتی طور پر کسی مذہب سے کوئی نفرت نہیں ہے، انہیں انصاف چاہئے۔یہاں کچھ لوگ ہم سے بات کرتے ہیں؛لیکن اس واقعہ کو مذہبی چشمہ سے دیکھ رہے ہیں۔انکت کے اہل خانہ نے کہا کہ جو بھی شخص ہمارا تعاون کرنا چاہتا ہے وہ دل سے تعاون کرے محض فوٹو کھنچوانے اور نام و نمودکے لیے تعاون نہ کرے ، ہم از خود اپنی قانونی لڑائی لڑیں گے ۔ غور طلب ہے کہ اس پورے معاملے نے سیاسی رنگ لینے کے لئے شروع کر دیا ہے۔ میت کے اہل خانہ سے ملنے والے بی جے پی کے رہنما اور دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری نے سی ایم کجریوال سے ایک کروڑ معاوضہ دینے کا مطالبہ کر ڈالا ۔اس کے ساتھ ہی عام آدمی پارٹی کے باغی ممبر اسمبلی کپل مشرا نے انکت کی ہلاکت کو اخلاق کی شہادت سے جوڑ کر سی ایم کجریوال کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔ وہیں دہلی سے بی جے پی کے رکن اسمبلی منجندر سرسا نے ٹوئٹ کیا کہ دہلی میں جو ہوا اس کا سچ یہ ہے کہ 23 سال کے انکت کو آنر کلنگ کے نام پر اقلیتی طبقہ کے لوگوں نے ہلاک کرڈالا،انکت ایک مسلمان لڑکی سے محبت کرتا تھا جس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے خاندان نے ہی یہ قتل کو انجام دیا ہے ۔ تاہم خود یہ سوال بی جے پی کے لیڈران سے بھی ہوتا ہے کہ آخرش لوجہاد کا شوشہ کس نے چھوڑا تھا آج ان ہی لوگوں کی لگائی ہوئی آگ میں نوجوان جل رہے ہیں خواہ وہ جس طبقہ کا ہو ۔ 


Share: